نئی دہلی،02؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے پیر کو اترپردیش حکومت سے ریاست میں حالیہ دنوں ہوئے انکاونٹر پر نوٹس جاری کرکے دو ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اترپردیش میں انکاونٹر کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے عرضی دائر کی ہے جس میں کئی تصادم کے فرضی ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
پی یو سی ایل کی عرضی پر پیر کو سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے نوٹس جاری کرکے دو ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔ پی یو سی ایل کی طر ف سے وکیل سنجے پاریکھ نے دائر کردہ عرضی میں الزام لگایا ہے کہ حالیہ دنوں میں اترپردیش میں کم از کم پانچ سو انکاونٹر ہوئے ہیں جن میں 58افراد ہلاک ہوگئے۔ بنچ نے اس معاملے میں قومی حقوق انسانی کمیشن کو بھی فریق بنانے کی درخواست کو مسترد کردیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں گذشتہ مارچ میں اترپردیش میں نئی حکومت کی تشکیل ہوئی تھی۔ نئی حکومت کے بعد ریاست میں قانون و انتظام کو درست کرنے کے لئے پولیس تصادم کی تعداد میں کافی تیزی آئی تھی۔ تصادم کے ان واقعات پر اپوزیشن مسلسل یوگی حکومت کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ انکاونٹر کے نام پر پولیس بے گناہوں کو مار رہی ہے۔